اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے قصیدۂ لامیہ پر حال اور ماضی کی شیعہ اور سنی شخصیات نے شرحیں لکھی ہیں؛ منجملہ "علی فہمی بوسنائی"، "علامہ شیخ جعفر عماری"، اور "علامہ سردار کابلی"۔
اب "حضرت ابو طالب(ع)؛ حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کی مناسبت سے اس زندہ جاوید کاوش پر ایک نئی شرح تحریر اور شائع ہوئی ہے۔
"حضرت ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار" - تین سالہ علمی، ادبی، تبلیغی اور ثقافتی فعالیتوں کے بعد - اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام اور مختلف اداروں کے تعاون سے 9 مارچ 2021ء سے منعقد ہو رہا ہے۔
اس سیمینار کی علمی سرگرمیوں میں "حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے ادبی ورثے کے سلسلے میں مرتبہ فاخر اور عمدہ کاوشوں پر تحقیق اور ان کے احیاء، تصحیح و تراجم کا اہتمام شامل ہے نیز شیعہ اور حضرت ابو طالب(ع) کی منزلت و مرتبت کے بارے میں، سنی مصادر میں منقولہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ارشادات و آراء کی روشنی میں کچھ رسائل کی اشاعت سے عبارت ہے۔ چنانچہ ہم ان کاوشوں کے تعارف کا اہتمام کررہے ہیں۔
ہم نے حصہ اول میں قصیدہ لامیہ پر علامہ سردار کابلی کی شرح، دوسرے حصے میں حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کے قصیدۂ لامیہ کے ترجمے، اور تیسرے حصے میں "زہرۃ الادباء فی شرح لامیۃ شیخ البطحاء" کا تعارف پیش کیا اور اب چوتھے حصے میں سیمینار کے سلسلے میں شائع ہونے والی چوتھی کاوش کا تعارف کراتے ہیں:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
4۔ بلوغ المطالب في شرح لاميۃ أبی طالب علیہ السلام
* کتاب کا نام: بلوغ المطالب فی شرح لاميۃ أبی طالب علیہ السلام
* زبان: عربی
* تألیف: عمار الفلاحی (ابو یاسر)
* بہ کوشش: محمد مہدی صباحی کاشانی
* ناشر: حضرت ابوطالب(ع) ثقافتی ادارہ برائے تحقیق و اشاعت
* پہلی اشاعت: 1440ہجری قمری - 1398 ہجری شمسی
* آئی ایس بی این: 30-95539-622-978
* صفحات کی تعداد: 82 صفحات
* حصے:
- مقدمہ (جو ابو طالب (علیہ السلام) اور انکے قصیدہ لامیہ، اس قصیدے کے صدور کی وجہ، اس کی توثیق و اعتبار، قصیدہ لامیہ کے اشعار کی تعداد کے بارے میں علماء اور دانشوروں کے کلام، لامیہ اور اس کی شرحوں کے تعارف، قصیدہ لامیہ کے آغاز اور تشکر و سپاس پر مشتمل ہے)۔
- قصیدہ لامیہ اور اس کی عربی شرح
- کتابیات
نیز، کتاب کے آخر میں حضرت ابوطالب(ع) ثقافتی ادارہ برائے تحقیق و اشاعت کے مطبوعات کی فہرست درج ہے۔
* وضاحت:
حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کا شمار قبل از اسلام اور اسلام کے صدر اول کے عظیم عرب شعراء میں ہوتا ہے اور "ابن شہر آشوب (ابوجعفر، محمد بن علی بن شہرآشوب بن ابونصر بن ابوالجیش ساروی مازندرانی؛ متوفٰی 588ھ) کے بقول، ان کا ادبی ورثہ 3000 اشعار پر مشتمل ہے جو ان کے ایمان راسخ کا ناقابل انکار ثبوت ہے۔ لیکن شاید صرف ایک ہزار اشعار کو بازیاب کرایا حاسکے۔ ان اشعار کا 90٪ حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اسلامی واقعات و حوادث کے بارے میں ہے جیسے: آنحضرت(ص) کا اپنی قوم کو دعوت اسلام دینا، یا حبشہ کے بادشاہ "نجاشی" کا شکریہ ادا کرنا، جنہوں نے مسلمانوں کو پناہ دی تھی یا دین کی راہ میں روڑے اٹکانے والے دشمنوں اور مشرکین کی مذمت کرنا۔
حضرت ابو طالب (علیہ السلام) کا طویل ترین، عمدہ ترین اور قوی ترین قصیدہ "قصیدہ لامیہ ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ کی مدح میں کہا گیا ہے اور شیعہ اور سنی علماء نے اسے نقل کیا ہے۔ نیز یہ قصیدہ ادبی شاہکار سمجھا جاتا ہے؛ جیسا کہ "ابن کثیر دمشقی" (متوفیٰ 774ھ) نے لکھا ہے: "قصیدہ لامیہ اس قدر بلیغ اور مؤثر ہے کہ ابو طالب (ع) کے سوا کوئی بھی یہ قصیدہ کہنے سے عاجز ہے"۔
قصیدہ لامیہ پر ماضی اور حال کی شیعہ اور سنی شخصیات نے مختلف شرحیں لکھی ہیں اور اس کا دنیا کے مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا ہے۔
"کتاب بلوغ المطالب فی شرح لامیۃ ابی طالب علیہ السلام"، در حقیقت قصیدہ لامیہ کی مختصر سی شرح ہے۔ اس میں ہر شعر کے ذیل میں مختصر شرح بیان کی گئی ہے۔ "حضرت ابوطالب(ع) ثقافتی ادارہ برائے تحقیق و اشاعت" نے - جو "حضرت ابو طالب(ع)، حامی پیغمبر اعظم(ص)؛ بین الاقوامی" کا انعقاد کرنے والے اداروں میں شامل ہے، - اس مختصر شرح کی تالیف اور اشاعت کی سفارش دی تھی۔
جناب "عمار الفلاحی (ابو یاسر)" ان اشعار کے شارح ہیں جو حوزہ علمیہ قم کے نوجوان عرب فضلاء میں سے ہیں۔ قصیدہ لامیہ کے ایک اس نسخے میں 132 قصیدے ہیں اور جناب الفلاحی نے اختصار کا لحاظ رکھتے ہوئے، اشعار کی شرح کے لئے بہت محنت کی ہے اور ڈاکٹر "محمد التونجی" کے مُرَتَّبَہ دیوان ابو طالب(ع) سمیت فریقین کے متعدد مصادر حدیث و ادب سے رجوع کیا ہے۔
نیز، یہ کتاب مذکورہ ادارے کی کاوشوں کے مجموعے کی تیسری کاوش ہے جو "رسول اللہ(ص) کی منزلت حضرت ابوطالب(ع) کی نظر میں" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰